ابنا: پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی نے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سے دوطرفہ تعلقات اور دیگر موضوعات پر بات چیت کی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر داخلہ ایک اعلٰی سطحی وفد کے ہمراہ کل پاکستان کے دو روزہ دورے پر آسلام آباد پہنچے، جہاں انھوں نے آج پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ دو طرفہ تعلقات اور سکیورٹی کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ اس ملاقات میں پاکستان کے وزیراعظم نے ایران کے ساتھ باہمی روابط کو فروغ دینے کے اپنے پختہ عزم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ باہمی روابط کو مضبوط بنانا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے۔ نواز شریف نے ایران کو پاکستان کا ہمسایہ اور برادر ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں باہمی روابط کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ نواز شریف نے ایران کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی روابط کو پاکستان کے لئے بہت ہی اہم قراردیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو باہمی ظرفیتوں سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔
ایرانی وزیر داخلہ عبدالرضا فضلی رحمانی نے بھی اس ملاقات میں پاکستان کے ساتھ ایران کے سیاسی، ثقافتی، تاریخي، مذہبی اور دینی روابط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان دو دوست اور برادر ملک ہیں اور ایران پاکستان کے ساتھ حسن ہمسائیگی کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ اس ملاقات میں پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار خان اور مشیر خارجہ سرتاج عزيز اور دیگر اعلٰی پاکستانی حکام بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف 11 مئی کو تہران کا دورہ کریں گے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزيرداخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی اصولی پالیسی پاکستان سمیت پڑوسی ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا ہے۔ ایران کے وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی نے گذشتہ شب اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان، ایران کے ساتھ مشترکہ ثقافتی، مذہبی تاریخی اور دینی خصوصیات کے باعث تہران کی خارجہ پالیسی میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔
رحمانی فضلی نے علاقے میں پائیدار امن واستحکام تک پہنچنے کے لئے پاکستان اور ایران کے درمیان تعاون کے فروغ پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان کو پائیدار امن و ثبات کے لئے ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا چاہئے اور تمام پڑوسیوں کو یہی کرنا چاہئے۔ ایران کے وزیر داخلہ نے علاقے اور ایران کے سرحدی مسائل میں غیر ملکی عناصر کی مداخلت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی کہ ایران کے پاس ایسے ثبوت موجود ہيں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ سرحدی اقدامات اور اشرار کی حمایت میں بیرونی عناصر سے وابستہ ایجنٹ ملوث ہيں۔ رحمانی فضلی نے کہا کہ علاقے کے ممالک بالخصوص ایران، پاکستان اور افغانستان اگر مسلسل تعاون جاری رکھیں اور مشترکہ اقدامات کو بڑھائيں تو یقیناً علاقے میں بیرونی عناصر کے منصوبے ناکام ہوجائيں گے۔ واضح رہے کہ ایران کے وزیر داخلہ پاکستان کے دورے پر ہيں اور آج وہ پاکستانی وزیراعظم نواز شریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سمیت مختلف حکام سے ملاقات کریں گے۔
دیگر ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ایرانی وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا دورہ ایران باہمی اعتماد، بھروسہ اور معاون شراکت داری کی بنیاد پر آئندہ کے لائحہ عمل کی نئی سمت کا تعین کریگا۔ وزیراعظم نے تجارت اور سرمایہ کاری کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا چونکہ اقتصادی اور سیاسی روابط ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں، لہٰذا ہمیں اپنے اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے پر زیادہ توجہ دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا ہمیں مواصلاتی رابطے اور مشترکہ سرحدی تجارتی منڈیوں کے ذریعے اپنے سرحدی علاقوں کے درمیان باہمی روابط کو تقویت دینے کے مقصد کی حامل حکمت ہائے عملی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اے پی اے کے مطابق ملاقات میں خطے کی مجموعی صورتحال، خصوصاً پاکستان، ایران سرحدی اور تجارتی معاملات سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا پاکستان ایران سرحد پر تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے حکمت عملی طے کرکے مشترکہ تجارتی منڈیوں کا قیام اور مواصلاتی رابطوں کو موثر بنایا جائے، پاکستان اور ایران کو اقتصادی شعبوں میں روابط کو مزید مستحکم بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا ہماری خارجہ پالیسی ایران کیساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر عمل پیرا ہے۔ پاکستان اور ایران مذہبی، ثقافتی اور تاریخی رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔
.......
/169